الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَسَبَبٍ اسلامه
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
حدیث نمبر: 11872
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ“ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ“
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تو میں سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ اپنی تلوار کے پٹے کے ساتھ گوٹھ مار کر بیٹھے تھے، میں نے ان سے تلوار لی اور اس کے پٹے سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمہاری گھبراہٹ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف کیوں نہیں ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا، جیسے ان دونوں نے کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11872]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17963»
وضاحت: فوائد: … تلوار کے پٹے سے گوٹھ مارنا، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اگر دشمن ہوا تو ہم اس کو واپس پلٹانے کے لیے مستعد ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11872 in Urdu