🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب ما جاء فى عمران بن الحصين رضى الله عنه
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11874
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أَمْسَكَ عَنِّي فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ
مطرف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، جب میں ان کی خدمت میں آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: میں آپ کو احادیث سنایا کرتا تھا، امید ہے کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ ان احادیث سے فائدہ پہنچائے گا، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شدت مرض کے دوران میرے صبر کرنے کی وجہ سے اللہ کے فرشتے آکر مجھے سلام کہا کرتے تھے، اگر میں زندہ رہوں تو تم میری اس بات کا لوگوں کے سامنے اظہار نہ کرنا اور اگر میرا انتقال ہو جائے تو چاہو تو لوگوں کو بتلا دینا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، مگر جب میں نے اپنے زخم کو داغ لگوایا تو سلام کا یہ سلسلہ مجھ سے رک گیا، پھر جب میں نے اس عمل کو ترک کیا تو یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ تم یہ بھی جان رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک ہی احرام میں جمع کیا تھا اور اس کے بعد نہ کتاب اللہ میں اس سے منع کیا گیا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس سے منع فرمایا، بس ایک آدمی اس بارے میں اپنی رائے سے اس سے منع کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11874]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20080»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہجرت کے ساتویں سال خیبر کے موقع پر مشرف با سلام ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ متعدد غزوات میں حصہ لیا، فتح مکہ کے موقعہ پر بنو خزاعہ کے علم بردار تھے، دین کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے، امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بصرہ کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین کے احکام سکھا یا کریں، مستجاب الدعوات تھے، اہل بصرہ کہا کرتے تھے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو حفاظت کرنے والے فرشتوں دکھائی دیا کرتے تھے اور وہ ان سے ہم کلام بھی ہوا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا اور صحابۂ کرام کے مابین جو اختلافات اور لڑائیاں ہوتی رہیں،یہ ان میں ملوث نہ ہوئے۔بصرہ میں (۵۲) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
اس حدیث کے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جوحج افراد کو افضل سمجھتے تھے اور حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور اس سے منع بھی نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیاحق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے منع کریں، حج کے مسائل میں یہ حکم اور اس کی وجہ گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 1226


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11874 in Urdu