الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرِّ الْغَفَّارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِصَّةِ إسلامه
سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 11910
عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ“ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قیامت کے دن میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم میں سے جو آدمی دنیا سے اس حال میں گیا، جس حال میں میں اسے چھوڑ کر جاؤں تو وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا۔ اللہ کی قسم! میرے سوا تم میں سے ہر ایک دنیوی امور اور معاملات سے ملوث ہو چکا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11910]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، اخرجه الطبراني في الكبير: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21790»
وضاحت: فوائد: … دنیا ہی واحد چیز ہے، جو انسان کو آخرت کے معاملے میں دھوکہ دے سکتی ہے اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے دنیا کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیا۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11910 in Urdu