الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرِّ الْغَفَّارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِصَّةِ إسلامه
سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 11912
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُ حِينَ يَرَوْنَهُ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا يُفِرُّ النَّاسَ قَالَ إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنِ الْكُنُوزِ بِالَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
احنف بن قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کو دیکھتے تو اس سے دور بھاگ جاتے، میں نے اس آدمی سے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے بتلایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ میں ان لوگوں کو وہ خزانے یعنی مال و دولت جمع کرنے سے روکتا ہوں، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11912]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه الحاكم: 4/ 522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21782»
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11912 in Urdu