الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِي
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11937
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ“ قَالَ وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْحَرْبِ ثُمَّ يَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لشکر میں ابوطلحہ اکیلے کی آواز پوری جماعت کی آواز سے بہتر ہے۔ جنگ کے دوران سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور اپنے تر کش کے تیروں کو بکھیر دیتے اور کہتے: اے اللہ کے رسول! میرا چہرہ آپ کے چہرے کو بچانے والا ہے اور میری جان آپ کے لیے فدا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11937]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 3983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13781»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں رعب اور دبدبہ تھا، جس سے دشمن سہم جاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ واقعی کسی جنگجو کی آواز آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11937 in Urdu