🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب ما جاء فى الرمبصاء أو العميصاء أم سليم والدة انس بن مالك وزوجة أبى طلحة الأنصاري رضى الله عنهما
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11981
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشَفَةُ فَقِيلَ هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں گیا تو میں نے وہاں چلنے کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کیسی آہٹ ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ رمیصاء بنت ملحان کے چلنے کی آواز ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11981]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13865»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا ایک انصاری جلیل القدر صحابیہ ہیں،یہ خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، ان کی زیادہ شہرت کنیت سے ہے، ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔سہلہ، زمیلہ، انیسہ، رمیثہ، رمیصاء اور عمیصاء نام کے اقوال پائے جاتے ہیں، انہوںنے قبل از اسلام دور جاہلیت میں مالک بن نضر سے نکاح کیا، اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، انصار میں سے جو لوگ شروع شروع میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، یہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں، ان پر ان کا شوہر ناراض ہو کر سر زمین شام کی طرف نکل گیا اور وہیں اسے موت آ گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابو طلحہ نے نکاح کیا۔ سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ ابو طلحہ نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے واپسی پیغام بھیجا کہ آپ جیسے آدمی کے ساتھ نکاح سے انکار تو نہیں کرنا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آپ کافر ہیں، میرے لیے آپ سے نکاح کرنا حلال نہیں، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو یہی چیز میرے لیے مہر ہوگی اور میں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کا بطور مہر مطالبہ نہ کروں گی، چنانچہ انھوںنے اسلام قبول کر لیا اور یہی عمل ان کا مہر قرار پایا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے نہیں سنا کہ کسی خاتون کا مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مہر سے زیادہ بہتر ہو۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں بھی شریک ہوتی تھیں، ان کے بہت سے کارنامے ہیں جو ان کے کمال ایمان، ان کی دانش مندی اور قوت فیصلہ پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2456


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11981 in Urdu