🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ومنهم أحنف بن قيس ومنهم أويس القرني
احنف بن قیسlکا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12008
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ قَالَ بَيْنَمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِكَ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ“ قَالَ فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنْهَا
حسن سے روایت ہے کہ احنف نے کہا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنو سلیم کا ایک آدمی آ کر مجھے ملا اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میں تمہیں ایک خوش خبری سناؤں؟ میں نے کہا: جی ضرور سنائیں۔ اس نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف روانہ فرمایا تھا تاکہ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں تو تم نے اس موقع پر کہا تھا کہ اللہ کی قسم! اس رسول نے اچھی بات ہی کہی ہے اور میں نے بھی ان کے متعلق اچھا ہی سنا ہے، جب میں نے واپس آکر تمہاری بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ نے یوں دعا کی تھی: اے اللہ! تو احنف کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: پس مجھے سب سے زیادہ امید اسی دعا پر ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12008]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 2/ 50، وفي الاوسط: 1/ 185، والطبراني في الكبير: 7285، والحاكم: 3/ 614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23548»
وضاحت: فوائد: … احنف بن قیس، مشہور قول کے مطابق ان کا نام ضحاک ہے، بعض نے ضخر اور حارث بھی نقل کیا ہے، احنف ان کا نام نہیں، بلکہ لقب ہے۔ ان کی شہرت نام کی بجائے اس لقب سے ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا اور اسی دور میں اسلام بھی قبول کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ کر سکے، انھوں نے سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ذر وغیرہ سے احادیث روایت کی ہیں، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ احنف، اہل بصرہ کے سردار ہیں، ان کی وفات (۶۷) سن ہجری میں بصرہ میں ہوئی۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12008 in Urdu