🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الباب الأول فيما جاء أن النبى لم يتخلف قبل وفاته
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12027
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَرِيبٍ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ، لَا وَاللَّهِ! مَا رَأَيْتُ صَفْحَةَ وُجُوهِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُمْ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ”أَمَّا بَعْدُ! يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! فَإِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى هَذَا الْقَضِيبُ.“ لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلِدُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تقریبًا قریش کے اسی (۸۰) آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، تمام کے تمام قریشی تھے۔ اللہ کی قسم! اُس دن یہ لوگ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے، انھوں نے عورتوں کا ذکر کیا، ان کے بارے میں باتیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہے (اور اتنا زیادہ کلام کیا کہ) میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے خطبۂ شہادت پڑھا اور فرمایا: حمد و صلوۃ کے بعد (میں یہ کہوں گا کہ) قریشیو! تم لوگ اس (امارت) کے مستحق ہو، جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرو گے، اگر تم نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجے گا جو تمھاری چمڑی ادھیڑ دیں گے، جس طرح اس شاخ (جو آپ کے ہاتھ میں تھی) کا چھلکا اتار لیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شاخ کا چھلکا اتارا، (جس کی وجہ سے) وہ اچانک سفید اور سخت نظر آنے لگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12027]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 5024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4380»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث نبوت کی (صداقت و حقانیت کی) نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کئی صدیوں تک قریشیوں کی خلافت جاری رہی، بالآخر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور خواہش پرستیوں کی وجہ سے ان کی خلافت و ملوکیت دم توڑ گئی، اللہ تعالیٰ نے ان پر عجمیوں کو مسلط کر دیا اور مسلمان ذلیل ہو کر رہ گئے۔ اب اگر مسلمان مملکتِ اسلامیہ کے حصول کے لیے صدقِ دل سے متمنی اور کوشاں ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، اپنے دین کی طرف متوجہ ہوں اور شرعی احکام کی پیروی کریں۔ غور کریں کہ علم حدیث کی کتب میں وہ شروط و قیود مذکور ہیںجن کی بنا پر قریش میں خلافت کو بقا ملنی تھی، لیکن انھوں نے وہ شرطیں پوری نہیں کیں، اس لیے وہ محکوم بن گئے۔ اب ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی خواہشات اور اپنے آباء و اجداد کی تہذیبوں کو ترجیح نہ دیں، وگرنہ ہمیں پھر محکوم ہی رہنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: {اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ} (سورۂ رعد: ۱۱) … کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہو۔ بہرحال حسنِ عاقبت تو پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ (صحیحہ: ۱۵۵۲)

الحكم على الحديث: صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12027 in Urdu