الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الباب الأول فيما جاء أن النبى لم يتخلف قبل وفاته
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
حدیث نمبر: 12033
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَسَيَعُودُ إِلَيْهِمْ“ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٍ وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الْإِسْتَوَاءِ
سیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریب یہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخری الفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12033]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الطبراني في الكبير: 4227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16952»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔
حمیر یمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ل((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قیام نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔
حمیر یمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ل((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قیام نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔
الحكم على الحديث: اسناده جيّد
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12033 in Urdu