🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12051
عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَكَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعْنِي يَعُودُهُ فَقَالَ أَمَا إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَ بِهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً فَيَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ لَهَا غَاشٌّ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”فَهُوَ فِي النَّارِ“
حسن سے روایت ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے اورعبید اللہ بن زیاد ان کی تیماداری کے لیے آئے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے پہلے نہیں سنائی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بند ے کو رعایا پر حکمرانی عطا فرمائے، لیکن اگر وہ حکمران ا س حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا تھا تو اللہ تعالیٰ ا س پر جنت کو حرام کردیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ جہنمی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12051]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7150، ومسلم: 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20557»
وضاحت: فوائد: … مساوات کے ساتھ رعایا کے حقوق پورے کرنا انتہائی کٹھن مرحلہ ہے، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَلِیْ اَمْرَ عَشَرَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ اِلاَّ اَتَاہٗ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَغْلُوْلًا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَدُہُ اِلٰی عُنُقِہٖ: فَکَّہٗ بِرُّہٗ اَوْ اَوْبَقَہٗ اِثْمُہٗ: اَوَّلُھَا مَـلَامَۃٌ، وَ اَوْسَطُھَا نَدَامَۃٌ، وَآخِرُھَا خِزْیٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جو آدمی دس یا زیادہ افراد کا والی بنا، اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت اس حال میں لائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جکڑا ہوا ہو گا، پھر اس کی نیکی اس کو آزاد کر دے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس (امارت) کے شروع میں ملامت، درمیان میں ندامت اور آخر میں (روزِ قیامت) رسوائی ملتی ہے۔ (مسند احمد: ۵/ ۲۶۷)
بہرحال ذمہ داریاں سنبھالنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں مسئول ہیں اور کامیاب وہی ہے جو لوگوں کے آرام کو اپنے سکون پر ترجیح دیتا ہے۔
حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی عیاشی اور مال و دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے، کہ اس کو ادا کر دینے والوں کی تعداد بہت کم ہو گی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران کے سوانح عمری سے حکمرانی کی ذمہ داریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7150


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12051 in Urdu