الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. فصل فى تحدير ولاة الأمور من بطانة السوء، وما يحل لهم من أموال الله
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
حدیث نمبر: 12057
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردے اور پھر اس کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مخلص وزیر عطا کر دیتا ہے، وہ اگر بھولنے لگتا ہے تو وہ وزیر اسے یاددہانی کرادیتا ہے اور اگر اسے بات یادرہتی ہے تو وہ وزیر اس کی اعانت کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12057]
تخریج الحدیث: «صحيح، اخرجه ابوداود: 2932، والنسائي: 7/ 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24918»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جو حکمران مسلمانوں کے ساتھ مخلص ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے لیے اچھے حواریوں کا انتخاب کریں گے۔
الحكم على الحديث: صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12057 in Urdu