الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. الباب الرابع فى النهي عن طلب الإمارة والتنفير منها
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 12062
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي فَقَالَ ”إِنَّهَا أَمَانَةٌ وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا“
ابن حُجیرہ کہتے ہیں:سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے سننے والے آدمی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں ایک رات صبح تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشیاں کرتا رہا، میں نے باتوں باتوں میں عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کسی علاقہ کا امیربنادیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حکمرانی امانت ہے اور قیامت کے دن، شرمندگی، اور رسوائی کا باعث ہوگی، ما سوائے اس آدمی کے، جو اس ذمہ داری کو حق کے ساتھ لے اور اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12062]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21845»
وضاحت: فوائد: … بہت کم اور خاص لوگ ہیں، جنھوں نے حکمرانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت پائی ہے، وگرنہ اکثریت تو اپنی نا اہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے اس منصب کا حق ادا نہ کر سکی۔
قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے اپنے گھروں کے پانچ دس افراد کے اور اداروں کے پرنسپل اور مدیر سو دو سو بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں اور جو کروڑوں افراد کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، وہ کیا کرے گا، الا ما شاء اللہ۔
قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے اپنے گھروں کے پانچ دس افراد کے اور اداروں کے پرنسپل اور مدیر سو دو سو بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں اور جو کروڑوں افراد کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، وہ کیا کرے گا، الا ما شاء اللہ۔
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 1825
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12062 in Urdu