🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. الباب الرابع فى النهي عن طلب الإمارة والتنفير منها
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12064
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَصِيرُ حَسْرَةً وَنَدَامَةً“ قَالَ حَجَّاجٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ”نِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ“ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَصِيرُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبِئْسَتِ الْمُرْضِعَةُ وَنِعْمَتِ الْفَاطِمَةُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب امارت،حکمرانی کا لالچ کرو گے، لیکن یہ چیز قیامت والے دن بطورِ انجام حسرت اور ندامت ہو گی، یہ دودھ پلانے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہے، لیکن دودھ چھڑانے کی حیثیت میں بہت بری ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب امارت اور حکمرانی کا لالچ کر وگے، لیکن قیامت کے دن اس کا انجام مذامت اور حسرت ہوگا، یہ دودھ پلاتے ہوئے بہت اچھی اور دودھ چھڑانے کے بعد بہت بری لگتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12064]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10165»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابو الحسن سندھی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ (دودھ پلانے والی تو اچھی ہوتی ہے) سے مراد زندگی کی حالت ہے، جو امارت تک پہنچاتی ہے اور وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ (دودھ چھڑانے والی بڑی بری ہوتی ہے) سے مراد وہ حالت ہے، جس میں امارت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور وہ موت ہے، ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہوا کہ امارت والوں کی زندگی تو بڑی اچھی ہوتی ہے، لیکن موت بڑی بری ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۳۰)
دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں وقت کے امیر او رحاکم پر عائد ہوتی ہیں، انھوں نے رعایا کے ہر فرد کی مذہبی ضرورت پوری کرنی ہے، اپنی سلطنت میں قرآن و حدیث کے احکام عملی طور پر نافذ کرنے ہیں، مساجد کی امامت کا عہدہ سنبھالنا ہے، موقع ملے تو فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے، ہر گھر کی مالی اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنی ہیں، رعایا کی دشمنانِ اسلام سے حفاظت کرنی ہے، اسلام کو پچھلی نسلوںسے منتقل کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے، رعایا کے کسی فرد کو کسی دوسرے فرد پر ظلم کرنے کا موقع نہیں دینا … … غرضیکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیابت اختیار کرنی ہے۔
لیکن یہ ذمہ داریاں کون پوری کرے گا، خصوصا اس دور میں، جہاں عیاشیوں کے لیے عہدوں کے تختوں پر چڑھا
جاتا ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، کہ امارت و حاکمیت کی گھڑیاں ندامت و حسرت کا سماں پیدا کریں گی، لیکن اس وقت، جب پچھتاوا فائدہ نہیں دے گا۔

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 7148


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12064 in Urdu