الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. الفضل الأول فى الأئمة المضلين كفانا الله شرهم
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
حدیث نمبر: 12072
قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي لِكَعْبٍ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي قَالَ وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ قَالَ مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَئِمَّةً مُضِلِّينَ قَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، تم نے مجھ سے کوئی بات چھپانی نہیں ہے،سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جو کچھ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! اس میں سے کچھ بھی آپ سے نہیں چھپاؤں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے درست کہا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ بات راز دارانہ انداز سے بتلائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12072]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زھير بن سالم لم يسمع من عمر، وقال الدارقطني: حمصي منكر الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 293»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12072 in Urdu