الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. الفضل الثاني فى إمارة السفهاء نعوذ بالله منهم
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12075
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ”أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ“ قَالَ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ قَالَ ”أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوں اور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4514، والحاكم: 4/ 422، والدارمي: 2776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14494»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12075 in Urdu