الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. الفضل الثاني فى إمارة السفهاء نعوذ بالله منهم
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12082
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكُونُ أُمَرَاءُ تَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12082]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 1286، والطيالسي: 2223، و ابن حبان: 286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11210»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی حکمران راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور ظاہری اسباب کے مطابق اس کی اصلاح بھی مشکل لگ رہی ہو تو اس سے کنارہ کشی کی جائے اور دور رہنے کی کوشش کی جائے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12082 in Urdu