الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. الفضل الثاني فى إمارة السفهاء نعوذ بالله منهم
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12086
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا ثَنَا كَامِلٌ قَالَ ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعٍ“ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعٍ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ لِلَكِيعِ بْنِ لَكِيعٍ وَقَالَ أَسْوَدُ يَعْنِي اللَّئِيمَ بْنَ اللَّئِيمِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسمٰعیل بن عمر اور ابن بکیر نے کہا: جب تک یہ حقیر بن حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسود راوی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد برا شخص کا برا بیٹا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12086]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8305»
وضاحت: فوائد: … لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12086 in Urdu