🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي وُجُوبٍ مُنَاصَحَةِ أُولِي الأمْرِ ، وَأمْرِهِمْ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيهِمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12125
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَحَمَلَهَا فَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ فِيهِ غَيْرُ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ صَدْرُ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُنَاصَحَةُ أُولِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو ترو تازہ اور خوش و خرم رکھے، جس نے میری حدیث سن کر اسے دوسرے تک پہنچایا، فقہی اور علمی بات کو لے جانے والے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو خود فقیہ نہیں ہوتے اور کئی لوگ اپنے سے زیادہ فقیہ تک احادیث کو پہنچاتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا، مسلمانوں کی دعا دوسرے مسلمانوں کو گھیر کر رکھتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12125]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ماجه: 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13383»
وضاحت: فوائد: … حکمرانوں کے لیے خیرخواہی یہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا اس سے مراد یہ ہے کہ ان تین امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جس شخص نے ان تین امور کو اپنایا، اس کا دل خیانت اور شرّ سے پاک ہو گیا۔
خیانت نہ کرنے کامفہوم یہ ہے کہ مومن دیانتدار کے ساتھ حدیث میں مذکور امور سر انجام دیتا ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتا اگر یہ لفظ یَفِلُ پڑحا جائے جو کہ وغول سے ہے، جس کا معنی داخل ہونا ہے تو پھر اس کا معنی یہ ہے کہ ان مذکورہ امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے اور مومن ان کاموں کو سر انجام دے کر شرور سے بچ جاتا ہے جیسا کہ فوائد کے تحت بیان ہوا۔ (دیکھیں بلوغ الامانی اور نہایۃ ابن اثیر) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12125 in Urdu