🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. الْفَضْلُ الْخَامِسُ فِي هَيْبَتِهِ وَوَقَارِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل پنجم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12212
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اس گھر میں داخل ہوتی رہتی تھی، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد مدفون تھے، میں وہاں کپڑا بھی اتار لیتی تھی اور کہتی تھی کہ ایک میرا شوہر ہیں اور ایک میرے والد، لیکن اللہ کی قسم! جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دفن کیے گئے تو میں ان سے حیا کرتے ہوئے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر داخل ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12212]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 3/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26179»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کے اولیاء قبر سے بھی دیکھتے ہیں، تبھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دفن ہونے کے بعد پردہ کرتی تھیں۔
ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چار پانچ من مٹی سے دیکھ سکتے تھے، تو ان کے سامنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ کپڑا کیا آڑ کرے گا، جس سے وہ پردہ کرتی تھیں، اس استدلال کا معنی یہ ہوا کہ اللہ کے ولی مٹی سے تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن کپڑے سے نہیں دیکھ سکتے۔ سبحان اللہ!
یہ اس موضوع کی تفصیل کا مقام نہیں ہے۔ یہ سیدہ کا ایک طبعی معاملہ اور ان کے ذہن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کامقام و مرتبہ تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12212 in Urdu