الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. الباب الخامس فى تحقيق رؤياه، وطعن العجمي إياه ، وذكر شيء من وصاياه، وتناء الناس عليه، وبكائهم عنده، وعدم استخلافه
باب پنجم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
حدیث نمبر: 12231
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِنْدَهُ ابْنُ عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحَدًا وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَأْتَمَنَكَ النَّاسُ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأْتَمَنَهُ النَّاسُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَصْحَابِي حِرْصًا سَيِّئًا وَإِنِّي جَاعِلٌ هَذَا الْأَمْرَ إِلَى هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَدْرَكَنِي أَحَدُ رَجُلَيْنِ ثُمَّ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَيْهِ لَوَثِقْتُ بِهِ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَبُو عُبَيْدَةَ ابْنُ الْجَرَّاحِ
ابو رافع سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابن عمر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما بھی ان کے ہاں موجود تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا درکھو کہ میں نے کلالہ کی بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور میں نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ کے طور پر نامزد نہیں کیا اور میری وفات کے وقت جتنے عرب غلام میری ملکیت میں ہوں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے مال سے آزاد ہوں گے۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر آپ خلافت کے بارے میں کسی مسلمان کا اشارہ کر دیں تو لوگ اس بارے میں آپ کو امین خیال کریں گے، جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسا کرگئے تھے اور لوگوں نے ان کو امین سمجھا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنے ساتھیوں میں خلافت کی شدید حرص دیکھی ہے، پس میں اس امر کو ایسے چھ اشخاص کے سپرد کر رہا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے وقت جن سے خوش تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرمجھے ان دو افراد میں کوئی ایک پا لیتا تو میں یہ معاملہ اس کے سپرد کر کے اس پر اعتماد کرتا، ایک سالم مولی ابی حذیفہ اور دوسرا ابو عبیدہ بن الجراح۔1 [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12231]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 129»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح کسی ایک شخص کو خلیفہ مقرر نہیں کیا، البتہ چھ شخصیات کے نام پیش کیے تھے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۲۲۷)
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12231 in Urdu