🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. الفَضْلُ الأَوَّلُ فِي خُرُوجِ عَائِشَةَ وَمَا أَخْبَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ذلِكَ
فصل اول: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکلنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا س کے معلق پیشن گوئی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12335
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ فَمَرِضَ فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ قَالَ بِخَيْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَتُعِينَنِي قَالَ بَلَى إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ قَالَ عَلِيٌّ وَمَا هُوَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا جَارِيَةُ هَاتِي سَيْفِي فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ غِمْدًا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ طَائِفَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَلَيْهِ السَّلَامُ وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنِ اتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَهَذَا سَيْفِي فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ وَلَمْ يَدْخُلْ
۔ (دوسری سند) عدیسہ بنت اہبان بن صیفی بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے والد سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کے پاس تھیں، وہ بیمار پڑ گئے اور پھر ان کو افاقہ ہو گیا، اس وقت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بصرہ میں تھے، وہ ان کے گھر تشریف لائے اور ان کے کمرہ کے دروازہ کے پاس کھڑے ہو کر سلام پیش کیا، میرے والد نے انہیں سلام کا جواب دیا، انہوں نے کہا: ابو مسلم! کیسے مزاج ہیں؟ میرے والد نے کہا: ٹھیک ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میرے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے میں نکل کر میری مدد نہیں کرو گے؟ میرے والد نے کہا:کیوں نہیں، بشرطیکہ میں جو کچھ بیان کروں، آپ اسے پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا؟ پس میرے والدنے کہا: لڑکی! ذرا میری تلوار لے آؤ۔ میں نے میان نکال کر ان کی گود میں لے جا کر رکھ دی، انہوں نے میان سے تھوڑی سی تلوار نکالی اور پھر اپنا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا اور کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھاکہ: جب مسلمانوں کے مابین فتنہ و اختلاف بپا ہو تو لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ پس میری تو یہی تلوار ہے، اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلتا ہوں، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں تمہارے اور تمہاری تلوار کی کوئی ضرورت نہیں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کمرے کے دروازے سے باہر چلے گئے اور واپس نہ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12335]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20946»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20946


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12335 in Urdu