🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب حجة من قال بعدم قضاء السنن الراتبة إذا فاتت
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی¤قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1241
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا؟ فَقَالَ: ( (قَدِيمَ عَلَيَّ مَالٌ فَشَغَلَنِي (وَفِي رِوَايَةٍ: قَدِيمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ فَحَبَسُونِي) عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ) ) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَنَقْضِيَهُمَا إِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: ( (لَا) )
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی، جو آپ نہیں پڑھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال آ گیا تھا، بس اس نے مشغول کیے رکھا، ایک روایت میں ہے: میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تھا، اس نے مجھے ان دو رکعتوں سے روک دیا، جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا، پس میں نے ان کو اب ادا کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ دو رکعتیں ہم سے رہ جائیں تو ہم ان کی قضائی دیا کریں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «صلاة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر صحيح، وھذا اسناد اختلف فيه۔ أخرجه ابو يعلي: 7028، وابن حبان: 2653، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 306، وقوله: افنقضيھما، قال: لا زيادة ضعيفة تفرد بھا يزيد بن هارون، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27213»
وضاحت: فوائد: … تخریج کے تحت وضاحت ہے کہ عصر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے۔ البتہ حدیث کے آخر میں رہی ہوئی سنن کی قضائی نہ دینے والی بات سنداً ثابت ہیں۔ اس لیے عصر کے بعد سورج زرد ہونے سے پہلے سنن کی قضائی بھی ٹھیک ہے اور ویسے بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صلاة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1241 in Urdu