🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَخْبَارِهِ وَخُطْبِهِ وَحَجْهِ
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12415
حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ عَمَلِ أَحَدِكُمْ كَمَثَلِ الْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ وَإِذَا خَبُثَ أَعْلَاهُ خَبُثَ أَسْفَلُهُ“
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے منبر پر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کا جو حصہ اب باقی ہے، وہ محض مصائب اور فتنے ہیں اور تمہارے اعمال کی مثال برتن کی مانند ہے، اگر اس کا اوپر والا حصہ پاک ہو تو نیچے والا حصہ بھی پاک ہوگا اور اگر اوپر والا حصہ ناپاک ہو ا تو نیچے والا بھی ناپاک ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12415]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 866، وأخرجه ابن ماجه مختصرا: 4035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16978»
وضاحت: فوائد: … تقریباً ساڑھے چودہ صدیاں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک امت مسلمہ کا کثیر وقت مصیبتوں، آزمائشوں اور فتنوں میں گزرا، خوشحالی اور روحانی تسکین والے زمانے کی مقدار بہت کم رہی، موجودہ زمانہ بھی مسلمانوں کے حق میں کسی بار گراں سے کم نہیں ہے، بلکہ اب تو مسلمان کفر کو غالب اور اپنے اسلام کو مغلوب سمجھنے لگ گئے ہیں اور بعض ممالک کے باشندے دشمنوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے نیک اعمال اس کے باطن کے اچھا ہونے پر دلالت کرتے ہیں، یہی معاملہ برے اعمال کا ہے۔ اس سے ان لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، جو بعض برائیوں میں ملوث ہونے اور بعض فرائض سے پہلوتہی برتنے کے باوجود اس پراگندہ خیال کے دعویدار ہیں کہ نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تعلق تو دل سے ہے، بظاہر نہ بھی کی جائے تو خیر ہے۔ دراصل ایسے لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے اور یہ دعوی ان کی بد عملی کا بہانہ ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12415 in Urdu