🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. فَضْلُ فِي نَصِيحَةِ أَبِي شُرَيحِ الصَّحَابِيِّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ الْأَمَوِي الْوَالِي عَلَى الْمَدِينَةِ مِنْ قِبَلِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَمَا بَعَثَ بَعْثًا إلى مَكَّةَ لِمُحَارِبَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَا، وَعَدْمٍ قُبُولِهِ النَّصِيحَةَ
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح رضی اللہ عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12434
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، …۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12434]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16487»
وضاحت: فوائد: … یزید بن معاویہ کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص تھا، یہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ مکرمہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا، اس دوران سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، جس کی روشنی میں عمرو بن سعید کی کاروائی صحیح نہیں تھی۔
حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16487


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12434 in Urdu