🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الباب الأول فيما ورد فى فضل الأمة المحمدية
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12473
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} [الأنفال: 33]
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12473]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19836»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و امان کے دو اسباب تھے، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور دوسرا استغفار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سبب ختم ہو چکا ہے اور استغفار کا سبب باقی ہے۔ اس آیت سے استغفار کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12473 in Urdu