الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12485
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ أَلَا فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارَى ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ عَمِلْتُمْ فَغَضِبَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالُوا نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو بہت سے لوگوں کو بطور مزدور لگائے اور ان سے کہے: کون ہے جو صبح سے نصف النہار تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ یہودیوں نے اس شرط پر کام کیا، اس نے پھر کہا: کون ہے جو نصف النہار سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ نصاریٰ نے اس شرط پر کام کرنا منظور کر لیا، اس نے بعد ازاں کہا: کون ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض پر کام کرے گا۔ خبردار! وہ تم ہی ہو، جو تھوڑا وقت اور زیادہ معاوضہ پرکام کرنے والے ہو، یہ سن کر یہود اور نصاریٰ غضبناک ہوئے کہ ہم نے محنت زیادہ کی اور مزدوری تھوڑی ملی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کچھ کمی کی ہے یا اجرت کے سلسلہ میں تم پر کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، یہ میں جسے چاہتا ہوں، دے دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12485]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2268، 3459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4508»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر اتنا کرم کیا کہ اس کو تھوڑے وقت کے عوض معاوضہ زیادہ دیا۔ اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ نمازِ عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہوتا ہے، اس موضوع پر متعلقہ ابواب میں بحث ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2268
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12485 in Urdu