الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. الباب الخامس فى تمييز الأمة المحمدية من سائر الأمم يوم القيامة بالتحجيل
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
حدیث نمبر: 12511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ قَالَ ”أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ“
سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ساری امتوں میں سے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں انہیں پہچان لوں گا، انہیں ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوں میں ملیں گے اور سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پر علامت ہو گی، میں اس علامت کی وجہ سے بھی انہیں پہچان لوں گا اور ان کے آگے آگے روشنی دوڑ رہی ہوگی،اس سے بھی میں انہیں پہچان لوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12511]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22083»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12511 in Urdu