🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. الباب الأول فى فضل القرن الأول الذى بعث فيه النبى ﷺ
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12520
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: ”مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا.“ قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قُلْنَا: نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: ”أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ.“ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ”النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ.“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کی، اس کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم انتظار کر لیں اور عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کر لیں، سو ہم نے انتظار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مغرب سے اب تک یہیں ٹھہرے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے سوچا تھا کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کرلیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر و بیشتر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تار ے آسمان کے محافظ ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اللہ نے آسمان کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا اور میں اپنے صحابہ کا محافظ ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات پیش آ جائیں گے، جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے محافظ ہیں،جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ شدید حالات درپیش ہوں گے، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12520]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19795»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ صحابۂ کرام کے دور کے اواخر میں فتنہ و فساد اور بد امنی کی بعض صورتیں موجود تھیں، لیکن بعد والے ادوار کودیکھا جائے تو وہ بڑی خیر والا زمانہ تھا۔
قارئین کرام! اس اور اگلے باب کی احادیث کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شریعت کی روشنی میں خیر و شرّ کے امور کی شناخت رکھتے ہوں، وگرنہ تو آج ہر ایک کا دعوی ہے کہ ہم چوں دیگرے نیست اور اسی لوگ بڑی سے آں۔ امت ِ مسلمہ شرّ اور بدی والے جس زمانے سے اب گزر رہی ہے،ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، لیکن مصیبت یہ ہے کہ شرّ کو شرّ قرار دینے کے لیے تیار کوئی نہیں ہے، ایک مثال یہ ہے کہ شریعت میں بے پردہ عورت کو دیکھنا منع ہے، لیکن اب سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، بازاروں، سیرگاہوں، شادی بیاہ کے موقعوں، لطف اندوزی کی صورتوں، اشتہاروں اور تعلیمی اداروں میں عورت کو دلہن شکل دے کر بلکہ نیم برہنہ کر کے اتنا عام کر دیا گیا کہ نسل نو تو کجا، بزرگ خواتین و حضرات کو یہ سمجھانا مشکل ہو گیا ہے کہ عورت کو دیکھنا گناہ ہے اور یہ سب گناہ کی صورتیں ہیں۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہِ (اللہ کی پناہ)۔

الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2531


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12520 in Urdu