🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي خُصُوصِيَّاتِ قُرَيْشٍ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لَهُمْ
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12548
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ، وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سب سے جلدی ہلاک ہونے والا قبیلہ قریش کاہے، قریب ہے کہ ایک عورت ایک جوتے کے پاس سے گزرے اور کہے: یہ کسی قریشی آدمی کا جوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12548]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البزار: 2788، وابن حبان: 6853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8418»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ جوتے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود قریشیوں کی کوئی علامت یا نشان ہو۔ اس نبوی ارشاد کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ قَوْمُکِ أَسْرَعُ أُمَّتِی بِیْ لِحَاقاً۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَائَ کَ لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُوْلُ کَلَاماً ذَعَّرَنِیْ۔ قَالَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: تَزْعَمُ أَنَّ قَوْمِیْ أَسْرَعُ أُمَّتِکَ بِکَ لِحَاقاً، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: وَمِمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: ((تَسْتَحْلِیْھِمُ الْمَنَایَا، وَتَنْفِسُ عَلَیْھِمْ أُمَّتُھُمْ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَکَیْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَوْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((دَبًی تَأْکُلُ شِدَادُہٗ ضِعَافَہٗ حَتّٰی تَقُوْمُ عَلَیْھِمُ السَّاعَۃُ۔)) (الصحیحۃ:۱۹۵۳) … اے عائشہ! میری امت میں سے تیری قوم سب سے پہلے مجھے ملنے والی
ہے۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے‘ آپ تشریف لائے اور ایسی بات کہی ہے جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سی بات؟ انھوں نے کہا: آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے میری قوم سب سے پہلے آپ سے ملنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ایسے کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موتیں ان کو میٹھا محسوس کریں گی اور ان کی قوم ان پر حسد کرے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کے بعد یا اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ٹڈیوں کی طرح زور دار کمزوروں کو کھا جائیں گے (اور کوئی انصاف کرنے والا نہ رہے گا)، انہی لوگوں پر قیامت برپا ہو جائے گی۔
(مسند احمد: ۶/ ۸۱، ۹۰، صحیحہ: ۱۹۵۳)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12548 in Urdu