🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي خُصُوصِيَّاتِ قُرَيْشٍ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لَهُمْ
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12550
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: ”لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ.“ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمُهُ عَاصِي فَسَمَّاهُ مُطِيعًا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا مطیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ قریش کے عُصَاۃ یعنی عاص نامی افراد میں سے اس مطیع کے سوا کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا اور اس صحابی کانام بھی عاصی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12550]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18022»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اہل علم کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے بارے میں یہ خبر دینا چاہتے ہیں کہ وہ سارے کے سارے مشرف باسلام ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہو گا، جیسا کہ غیر قریشی قبائل کے افراد مرتد ہو گئے تھے اور پھر ان سے لڑائی کی گئی تھی۔ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ کسی قریشی کو ظلماً قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ قریشیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا رہا۔ واللہ اعلم۔ (شرح مسلم نووی: ۱۲/ ۱۳۴)
اس حدیث میں لفظ عاص اسم علم ہے، نہ کہ اسم صفت اور اس کی جمع عُصَاۃ ہے، اس روایت کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ دورِ جاہلیت میں کئی لوگوں کا نام عاص تھا، مثلا: عاص بن وائل سہمی، عاص بن ہشام، عاص بن سعید بن عاص، عاص بن ہشام بن مغیرہ، عاص بن منبہ بن حجاج، عاص بن اسود۔
ان عاص نامی افراد میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا، ما سوائے مؤخر الذکر یعنی عاص بن اسودکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا، ویسے عاص کے لفظی معانی نافرمان ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کا نام مطیع رکھا، جس کا معنی فرمانبردار ہے۔
عاص اور عاصی ایک ہی لفظ ہے، عربی زبان میں بعض تراکیب میں اس کو عاص پڑھا جاتا ہے اور بعض میں عاصی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1782


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12550 in Urdu