الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1258
عَنِ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَكَانَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَيْسَ شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ) ) وَقَالَ مَرَّةً: يَا بُنَيَّ! إِذَا كُنْتَ فِي الْبَرَارِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَا شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ) )
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 723، وابن خزيمة: 389، وابو يعلي: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11031)۔ وأخرجه البخاري: 609، 3296 بالفاظ آتية۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11045»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 723
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1258 in Urdu