الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12610
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ.“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں اسے آپ کی اجازت سے حرم قرار دیتا ہوں، کوئی بدعتی یا گناہ گار یہاں پناہ نہ لے سکے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ گھاس کاٹی جائے اور اعلان کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری کے لیے یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی اجازت نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12610]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله لكل نبي حرم وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2920»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره دون قوله لكل نبي حرم وھذا اسناد ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12610 in Urdu