الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. البابُ السَّابِعُ فِيمَا جَاءَ فِي خَرَابِ الْمَدِينَةِ آخِرَ الزَّمَانِ
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12665
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَقِيلَ: تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ”تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ“، ثُمَّ قَالَ: ”لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے اور ہم ذوالحلیفہ میں ٹھہرے، کچھ لوگ تو مدینہ منورہ کی طرف جلدی چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات وہیں بسر کی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی رات گزاری، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حضرات کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ بتلایا گیا کہ وہ تو مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مدینہ کی طرف اور اپنی بیویوں کی طرف جلدی چلے گئے، خبردار! عنقریب ایک دور آئے گا کہ مدینہ کی اچھی بھلی حالت ہونے کے باوجود یہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش کہ مجھے علم ہو کہ یمن کے جبل وارق سے کب وہ آگ نمودار ہوگی، جس سے بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں یوں چمکیں گی، جیسے دن میں چمکتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12665]
تخریج الحدیث: «صحيح،قاله الالباني، اخرجه البزارفي مسنده: 430، وابن حبان: 6841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21613»
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12665 in Urdu