الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. الْفَضْلُ الثَّالِثُ ما جَاءَ فِي أَصْلِ مَسْجِدِ النَّبِيُّ ﷺ وَبَنَائِهِ
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
حدیث نمبر: 12685
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شَقَّتْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بڑی اینٹ اپنے پیٹ پرلگا کر اٹھائے آرہے تھے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کاا ٹھانا مشکل ہور ہاہے، اس لیے میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم اور اٹھا لاؤ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12685]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المطلب بن عبد الله بن حنطب لم يسمع من ابي ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8938»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث معنی اور متن کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے وقت موجود ہوں، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ہجری میں مدینہ منورہ تشریف لائے، جبکہ ۱ ہجری میں مسجد ِ نبوی کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12685 in Urdu