الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. الْفَضْلُ الرَّابِعُ مَنْ زَادَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 12687
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَادَ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَةِ إِلَى الْمَقْصُورَةِ، وَزَادَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”نَبْغِي نَزِيدُ فِي مَسْجِدِنَا“ مَا زِدْتُ فِيهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں معروف ستون سے مقصورہ (پتھر) تک اضافہ کیا تھا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اضافہ کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہم اپنی اس مسجد میں توسیع کرنا چاہتے ہیں تو میں اس میں توسیع نہ کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12687]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر بن حفص العمري، اخرجه البزار: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 330»
وضاحت: فوائد: … جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد ِ نبوی کی تعمیرِ نو کی تو فتوحات اور مال غنیمت کی کثرت کے باوجود انھوں نے سادگی کو برقرار رکھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں مسجد میں جو زینت اختیار کی ممکن ہے کہ وہ غلو اور ممنوعہ سجاوٹ سے کم ہو، بہرحال بعض صحابہ نے اس معاملے میں ان پر انکار بھی کیا تھا۔ مساجد کو مزین کرنے والا سب سے پہلا شخص ولید بن عبد الملک تھا، یہ صحابہ کا آخری زمانہ تھااور اکثر اہل علم فتنے کے خوف کی وجہ سے خاموش رہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر بن حفص العمري
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12687 in Urdu