الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ وَرُؤْيَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَسَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ التَّثْوِيبِ فِي الْفَجْرِ
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب¤اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
حدیث نمبر: 1270
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ الْحَكَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بِلَالٍ قَالَ: فَأَمَرَنِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ، وَنَهَانِي عَنِ الْعِشَاءِ، فَقَالَ شُعْبَةُ: وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَلَا ذَكَرَ إِلَّا إِسْنَادًا ضَعِيفًا، قَالَ أَظُنُّ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ أُرَاهُ رَوَاهُ عَنْ عِمْرَانِ بْنِ مُسْلِمٍ
ایک اور سند کے ساتھ مروی حدیث یہ ہے: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہوں اور عشا سے منع فرما دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 208، والبيھقي: 1/ 424، وانظر ما قبله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24411»
وضاحت: فوائد: … کوئی شک نہیں کہ اذان فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنے کا آغاز عہد نبوی میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ہو گیا تھا، بعض دلائل کا ذکر اس باب میں موجود ہے اور بعض کا ذکر آئندہ آئے گا، کچھ مرویات درج ذیل ہیں: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ اِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِیْ الْفَجْرِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: سنت یہ ہے کہ مؤذن اذانِ فجر میں حی علی الفلاح کے بعد اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، دارقطنی، بیہقی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان سکھلائی تو اسے فرمایا: ((فَاِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قُلْتَ:اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: جب نمازِ فجر (کی اذان ہو تو) اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنا ہے۔ (ابوداود: ۵۰۰)
مطلبیہ ہے کہ یہ الفاظ الصلوۃ خیر من النوم فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا اور عشاء کی اذان مین یہ کہنے سے روک دیا جیسا کہ دیگر احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا۔ (عبداللہ رفیق)
مطلبیہ ہے کہ یہ الفاظ الصلوۃ خیر من النوم فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا اور عشاء کی اذان مین یہ کہنے سے روک دیا جیسا کہ دیگر احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 208
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1270 in Urdu