🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مُجْتَمِعَةٌ
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12701
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلُهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12701]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11055»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ تبرّک، حصول برکت اور خاص ثواب کے ساتھ نماز پڑھنے کی نیت سے کسی مقام کی طرف سفر نہیںکیا جا سکتا، ما سوائے مسجد ِ حرام، مسجد ِ نبوی اور مسجد ِ اقصی کے۔ تجارت، حصول علم یا کسی اور جائز مقصد کے لیے سفر کرنا اور بات ہے۔
شیخ ولی اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی مسجد کی طرف بطور خاص سفر نہ کیا جائے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دورِ جاہلیت میں لوگ بزعم خود تعظیم والی جگہوں کی طرف سفر کر کے جاتے، ان کی زیارت کرتے اور ان سے تبرک حاصل کرتے، جبکہ ایسا کرنے میں واضح طور پر دین میں تحریف اور فساد پیدا ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کے ذریعے یہ دروازہ ہی بند کر دیا، تاکہ غیر شعائر کو شعائر کے ساتھ نہ ملایا جائے اور غیر اللہ کی پوجا پاٹ کا کوئی سبب پیدا نہ ہو جائے، میری رائے کے مطابق حق یہ ہے کہ اس معاملے میں قبر، کسی ولی کی عبادت کا محل اور کوہِ طور وغیرہ، ان سب کا حکم ایک ہے (کہ تبرّک کے حصول اور خاص اجر و ثواب کی نیت سے ان مقامات کی طرف سفر کرنا منع ہے)۔ (حجۃ اللہ البالغۃ)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 827


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12701 in Urdu