🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ صِفَةِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَعَدَدِ كَلِمَتِهِمَا وَقِصَّةِ أَبِي مَحْذُورَةَ
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1272
عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ وَأُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ مُخْتَصَرًا وَفِيهِ ذِكْرُ التَّكْبِيرِ الْأَوَّلِ أَرْبَعًا وَزَادَ فِيهِ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَإِذَا أَذَّنْتَ بِالْأَوَّلِ مِنَ الصُّبْحِ فَقُلْ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ؟) ) قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجِزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرِقُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا
سائب مولی ابی محذورہ او رام عبد الملک بن ابی محذورہ دونوں نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے سنا، راوی نے ذرا اختصار کے ساتھ سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی، البتہ اس میں پہلی تکبیر کے چار مرتبہ کہنے کا ذکر ہے اور اس میں مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے: جس وقت تو صبح کی پہلی اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنا اور جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہنا، کیا تو نے سن لیا ہے؟ سائب کہتے ہیں: سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال کاٹتے تھے نہ ان میں مانگ نکالتے تھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 501، وابن خزيمة: 385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15450»
وضاحت: فوائد: … یہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا ایک انداز تھا کہ اس کے جن بالوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک ہاتھ لگا تھا، اس نے ان کو کاٹنا یا ان کو ان کی ہیئت سے ہٹانا بھی گوارہ نہ کیا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 501


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1272 in Urdu