🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. مَارَوَاهُ حذيفة بن اليمان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفِتَنِ الا حَادِيثُ الْمُصَدَّرَهُ بِقَوْلِهِ ﷺ: «لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ ۔۔۔ »
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12879
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَالَ حُذَيْفَةُ فَإِنِّي لَأَرَى أَشْيَاءَ قَدْ كُنْتُ نَسِيتُهَا فَأَعْرِفُهَا كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ قَدْ كَانَ غَائِبًا عَنْهُ يَرَاهُ فَيَعْرِفُهُ قَالَ وَكِيعٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ مَرَّةً فَرَآهُ فَعَرَفَهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ کا ذکر فرما دیا، یاد رکھنے والوں نے ان کو یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا، میں خود بھی بہت سی ایسی اشیاء دیکھتا ہوں، جو مجھے بھول گئی تھیں، لیکن وہ دیکھنے سے مجھے یاد آ جاتی ہیں، جیسے ایک آدمی جب غائب ہو جانے والے (اور بھول جانے والے) آدمی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے پہنچان لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12879]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6604، ومسلم: 2891، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23274 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23663»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مستقبل میں ہونے والے جتنے اس قسم کے امور بیان کیے تھے، ان میں سے کئی امور کا تعلق صحابۂ کرام کے دور سے تھے، مثلا: سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی کی مظلومانہ شہادتیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں امت ِ مسلمہ کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا، ان میں جنگیں ہونا اور پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے صلح ہونا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، مال و دولت کی فراوانی، صحابۂ کرام پر سب و شتم، ملوکیت اور اس کے اثرات، بعض صحابہ کو کہنا کہ وہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اس قسم کا واقعہ رونما ہوتے ہوئے دیکھتے تو ان کو اس سے متعلقہ حدیث یاد آ جاتی، حدیث نمبر (۱۲۸۸۲)پر غور کریں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حیات کو فتنوں کی رکاوٹ قرار دیا اور جب اس رکاوٹ کو ہٹا دیا گیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ فتنوں کی انتظار ختم ہو گئی ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ زیادہ ہوا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور امت ِ مسلمہ دو بڑے فریقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہو گئی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6604


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12879 in Urdu