🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟) ) قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟) ) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (أَلَيْسَ يُصَلِّي) ) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ) )
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے ان کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تھے، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، دراصل وہ ایک آدمی کو قتل کرنے کی اجازت لے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باواز بلند فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس انصاری نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی شہادت نہیں ہے،“ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی نماز نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے لوگوں (کو قتل کرنے) سے منع کر دیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مرسلا مالك في المؤطا: 1/ 171، والبيھقي: 8/ 196، والشافعي في المسند: 1/ 13، وعبد الرزاق: 18688، وابن حبان: 5971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24070»
وضاحت: فوائد: … کسی کے نفاق کو معلوم کرنے کا ذریعہ وحی ٔ الہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے یہ ذریعہ ختم ہو چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صرف دو چیزیں باقی رہ گئی ہے، ظاہری اسلام اور ظاہری کفر، باطن کے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائیں گے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض مصلحتوں کی بنا پر منافقوں کو برداشت کیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب لوگ تین سے زیادہ ہوں تو ان میں سے کوئی دو علیحدہ سے سرگوشی کر سکتے ہیں، البتہ جب تین افراد ہوں تو ان میں سے دو افراد کو الگ سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه مرسلا مالك في المؤطا : 1/ 171


Al-Fath al-Rabbani Hadith 129 in Urdu