الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب ما يقول المستمع عند سماع الأذان والإقامة وبعد الأذان
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
حدیث نمبر: 1293
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا النَّبِيَّ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَّهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ … تو اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 614، 4719، وابوداود: 529، وابن ماجه: 722، والترمذي: 211، والنسائي: 2/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14877»
وضاحت: فوائد: … اذان کو دعوتِ تامّہ کہا گیا، جو توحید و رسالت پر مشتمل ہے اور جس میں خیر و فلاح کی طرف آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قائم رہنے والی نماز سے مراد یہ ہے کہ عبادت کا یہ انداز ہر امت میں باقی رہا۔ جنت میں سب سے اعلی منزل کا نام وسیلہ ہے اور فضیلت سے مراد سب سے بڑھ کر عالی مرتبہ ہونا ہے۔ صحیح بخاری (۷۴۴۰) سے ثابت ہوتا ہے کہ مقام محمود سے مراد میدان حشر کا وہ مقام ہے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلق اللہ کے لیے شفاعت کی خاطر سجدہ کریں گے اور یہ سجدہ سات دن رات تک طویل ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سجدے میں وہ حمد و ثنا بیان کریں گے، جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیں اور سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 614
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1293 in Urdu