الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. قتال الترك بأرض البصرة
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
حدیث نمبر: 12941
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا الْعَوَّامُ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ إِلَى جَنْبِهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دَجْلَةُ، ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ، فَيَتَفَرَّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا وَكَفَرُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ فَيُقَاتِلُونَ، قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ، يَفْتَحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْ بَقِيَّتِهِمْ، وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ الْبُصَيْرَةُ أَوِ الْبَصْرَةُ
سیدنا ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بصرہ کی سر زمین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی ایک جانب دجلہ نامی دریا ہے، وہاں بہت زیادہ کھجوریں ہیں۔ بنو قنطوراء (یعنی ترک لوگ) وہاں آکر ٹھہریں گے اور مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ اپنے اصل کے ساتھ مل جائے گا، (یعنی اپنی کھیتوں اور مویشیوں میں مصروف ہوجائے گا)، یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے دوسرا گروہ الگ تھلک رہے گا، یہ لوگ کافر ہوں گے اور ایک گروہ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ آئیں گے اورلڑیں گے، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر باقیوں کو اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ یزید بن ہارون کو ایک دفعہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ بصیرہ ہے یا بصرہ۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12941]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20684»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12941 in Urdu