🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. صِفَةُ الدَّجَّالِ وَانْطِبَاقُهَا عَلَى ابْنِ صَيَّادٍ
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12951
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا زَيْدٌ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”مَسْرُورًا مَخْتُونًا“) ”أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ“ ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ ”أَبُوهُ رَجُلٌ طِوَالٌ مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ طَوِيلُ الْأَنْفِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَةٌ عَظِيمَةُ الثَّدْيَيْنِ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”طَوِيلَةٌ“) قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّ مَوْلُودًا مِنَ الْيَهُودِ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَرَأَيْنَا فِيهِمَا نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ هَمْهَمَةٌ فَسَأَلْنَا أَبَوَيْهِ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ ”فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ“) فَقَالَ مَا كُنْتُمَا فِيهِ قُلْنَا وَسَمِعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي فَإِذَا هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس سال تک کوئی ولادت نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں کانا بچہ پیدا ہوگا۔ (ایک روایت میں ہے: اس کا ناڑو پہلے سے ہی کٹا ہوگا اور وہ پیدائشی طور پر ختنہ شدہ ہوگا۔) وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، وہ جب سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے والدین کے بارے میں بتایا کہ اس کا باپ طویل قد اور کمزور جسم والا ہوگا، اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی ہو گی اور اس کے پستان بڑے بڑے اور لمبے لمبے ہوں گے۔ بعد ازاں ہمیں اطلاع ملی کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، میں (ابو بکرہ) اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے والدین کے ہاں چلے گئے، ہم نے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ نشانیاں دیکھیں، اُدھر وہ بچہ دھوپ میں چادر اوڑھے ہوئے لیٹا تھا اور اس کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی، ہم نے اس کے ماں باپ سے کچھ باتیں پوچھیں، انہوں نے بتلایا: تیس سال تو ہمارے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، اس کے بعد ہمارے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوا، جو بڑا ضرر رساں اور کم نفع والا تھا۔ پھر جب ہم وہاں سے نکلے تو اس بچے کے پاس سے گزرے، میں نے اس کے سر سے کپڑا ہٹایا تو وہ بولا: تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے کہا: کیا تو ہماری باتیں سن رہا تھا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا، وہ ابن صیاد تھا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12951]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الترمذي: 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20689»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12951 in Urdu