یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. جرءة ابن صياد و محاوله عمر رضى الله عنهم قتله ومنع النبى ﷺ إياه عن ذلك
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12957
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً“ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ دُخٌّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ ”لَا إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہے، تو بتا وہ کیا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو ہر گز اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کو قتل کرنے دو۔ آپ نے فر مایا: نہیں، اگر یہ وہی دجال ہے، جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کرسکو گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12957]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ا3610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3610»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذہن میں {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} والی آیت تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12957 in Urdu