الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. البعث وأول من يبعث من البشر
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
حدیث نمبر: 13066
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي“، قَالَ: يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، ”وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحُوشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: لوگ مدینہ کو خیر آباد کہہ دیں گے، حالانکہ وہ ان کے لیے سب سے بہتر ہو گا، (درندے اور پرندے جیسے) روزی کے متلاشی جانور اس کو اپنی آماجگاہ بنا لیں گے، سب سے آخر میں مزینہ قبیلے کے دو چرواہے اپنی بکریوں کو ڈانٹتے للکارتے مدینہ کی طرف آئیں گے، (جب پہنچیں گے تو) اسے اجاڑ اور ویران پائیں گا، جب وہ ثنیۂ وداع تک پہنچیں گے تو چہروں کے بل ان کو اکٹھا کیا جائے گا یا چہروں کے بل وہ گر پڑیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13066]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1874، ومسلم: 1389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7193»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ مدینہ منورہ سے خلافت شام و عراق کی طرف منتقل ہوجانے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حالات قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے مختلف شواہد بھی ذکر کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو:فتح الباری: ۴/ ۱۱۱، ۱۱۲)
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1874
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13066 in Urdu