الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. البَعْثُ وَأَوَّلُ مَنْ يُبْعَثُ مِنَ الْبَشَرِ
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
حدیث نمبر: 13073
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ عَنْ أَبِيهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”هَا هُنَا تُحْشَرُونَ ثَلَاثًا رُكْبَانًا وَمُشَاةً وَعَلَى وُجُوهِكُمْ تُوفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أُمَّةً، أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، تَأْتُونَ فِي الْقِيَامَةِ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، أَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ“ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: ”إِلَى هَا هُنَا تُحْشَرُونَ“
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13073]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 234، والنسائي: 5/ 4، 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20258، 20259، 20260»
وضاحت: فوائد: … قیامت والے دن کل ستر امتیں ہوں گی، سب سے زیادہ تعداد والی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہو گی۔
کامل الایمان لوگ سوار ہو کر اور نیک و بد اعمال والے مؤمن پیدل جائیں گے۔
بڑی رسوائی ان کی ہو گی، جو پاؤں کے بجائے چہرے کے بل چل رہے ہوں گے، یہ کافر لوگ ہوں گے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ اَوْلِیَاء َ مِنْ دُوْنِہٖ وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیْرًا } … اور جنھیں گمراہ کر دے تو تو ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ (سورۂ اسرائ: ۹۷)
ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا گواہی دینے کو حجت و استدلال میں زیادہ بلیغ سمجھا جاتا ہے۔یہ موضوع قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَتّٰی اِِذَا مَا جَائُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (سورۂ حم السجدہ: ۲۰، ۲۱) … جب وہ (اللہ کے دشمن) جہنم کے قریب آ جائیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی۔ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت ِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ سورۂ یسین میںبھی یہ موضوع بیان ہوا ہے۔
یہ میدان حشر کے ہولناک مناظرہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ غَضَبِہٖ بِفَضْلِہ۔
کامل الایمان لوگ سوار ہو کر اور نیک و بد اعمال والے مؤمن پیدل جائیں گے۔
بڑی رسوائی ان کی ہو گی، جو پاؤں کے بجائے چہرے کے بل چل رہے ہوں گے، یہ کافر لوگ ہوں گے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ اَوْلِیَاء َ مِنْ دُوْنِہٖ وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیْرًا } … اور جنھیں گمراہ کر دے تو تو ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ (سورۂ اسرائ: ۹۷)
ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا گواہی دینے کو حجت و استدلال میں زیادہ بلیغ سمجھا جاتا ہے۔یہ موضوع قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَتّٰی اِِذَا مَا جَائُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (سورۂ حم السجدہ: ۲۰، ۲۱) … جب وہ (اللہ کے دشمن) جہنم کے قریب آ جائیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی۔ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت ِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ سورۂ یسین میںبھی یہ موضوع بیان ہوا ہے۔
یہ میدان حشر کے ہولناک مناظرہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ غَضَبِہٖ بِفَضْلِہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13073 in Urdu