🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. الْحَشْرُ وَصِفَةُ النَّاسِ فِيهِ
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13077
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: ”إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ}، فَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ثُمَّ يُؤْخَذُ بِقَوْمٍ مِنْكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ“ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ”وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشَّمَائِلِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أَصْحَابِي، قَالَ: فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُذْ فَارَقْتَهُمْ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} الآيَةَ إِلَى {إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 117] “
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ تم ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور غیر مختون ہوگے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ} (سورۂ انبیاء: ۱۰۴) (جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتداء کی تھی، اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، بیشک ہم اسے پورا کرنے والے ہیں۔) مخلوقات میں سب سے پہلے خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، پھر تم میں سے ایک گروہ کو بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ ابن جعفر کے الفاظ یوں ہیں: میری امت کے کچھ لوگوں کو لا کر بائیں طرف کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات جاری کیں، آپ کے جانے کے بعد یہ لوگ اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹ جاتے رہے، تو میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا:{وَ کُنْتُ عَلَیْھِم شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} (سورۂ مائدہ: ۱۱۷،۱۱۸) (میں ان پر نگران تھا، جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر نگران ہے، اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے)۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13077]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2526، ومسلم: 2860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2096»
وضاحت: فوائد: … میدانِ حشر میں مختلف اوقات میں لوگوں کی کیفیتیں بھی مختلف ہوں گی، ان دو ابواب سے دو کیفیتیں ثابت ہو رہی ہیں:
۱۔ لوگ ننگے ہوں گے۔
۲۔ لوگوں کو پھر لباس پہنایا جائے گا، ان میں سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابراہیم علیہ السلام کو پہنایا جائے گا۔
۳۔ تیسری کیفیت کا ذکر درج ذیل احادیث میںہے:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا وَلِيَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحْسِنْ کَفَنَہٗ، فَإِنَّھُمْ یُبْعَثُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ، وَیَتَزَاوَرُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ۔)) … جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو کفن دینے کا ذمہ دار بنے تو اچھا کفن دے، کیونکہ مردوں کو اپنے کفنوں میں اٹھایا جائے گا اور اسی میں لباس ایک دوسرے سے وہ ملاقاتیں کریں گے۔ (الخطیب فی التاریخ: ۹/ ۸۰، صحیحہ: ۱۴۲۵)
عَنْ اَبِي سَعِیْدِ الْخُدْرِيِّ: اَنَّہُ لَمَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِیَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَھَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّ الْمَیِّتَ یُبْعَثُ فِي ثِیَابِہِ الَّتِي یَمُوْتُ فِیْھَا۔)) … جب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے جدید کپڑے منگوا کر زیبِ تن کئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک میت کو ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ فوت ہوتا ہے۔ (ابوداود: ۳۱۱۴)
یہ مختلف احادیث تین معانی پر مشتمل ہیں:
حافظ ابن حجر نے جمع و تطبیق کی یہ صورتیں پیش کیں:
۱۔ بعض لوگوں کو ننگا اٹھایا جائے گا اور بعض کو کپڑوں میں۔
۲۔ سب کا حشر اس حال میں ہو گا کہ وہ ننگے ہوں گے، پھر انبیا کو لباس دیا جائے گا اور ان میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو۔
۳۔ قبروں سے لوگ ان کپڑوں میں اٹھیں گے، جن میں وہ فوت ہوتے ہیں، لیکن جب حشر میں پہنچنا شروع ہوں گے، تو ان کا لباس گر جائے گا اور وہ ننگے ہو جائیں گے، پھر سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔
حشر والوں کی کیفیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بدعت کی قباحت بھی بیان کی گئی ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سنت کی پیروی کریں اور بدعت سے اجتناب کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2526


Al-Fath al-Rabbani Hadith 13077 in Urdu