🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ فِي الْفَصْلِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1308
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا بِلَالُ! اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ نَفَسًا يَفْرُغُ الْأَكِلُ مِنْ طَعَامِهِ فِي مَهْلٍ وَيَقْضِي الْمُتَوَضِّئُ حَاجَتَهُ فِي مَهْلٍ) )
سیّدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کر کہ کھانے والا اپنے کھانے سے باآسانی فارغ ہوسکے اور وضو کرنے والا آرام سے اپنی حاجت پوری کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي الفضل وفي الباب عند الترمذي: 195، 196 واسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21609»
وضاحت: فوائد: … یاد رہے کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کییہ حدیث سیّدنا جابر، سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا سلمان فارسی سے بھی مروی ہے، اس لیے ان مختلف اسانید کی بنا پر یہ قابل حجت ہے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام طرق ذکر کر کے کہا: یہی میرا خیال ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، کیونکہ اس کے طرق شدید ضعف سے خالی ہیں، ما سوائے تیسرے طریق کے۔ (صحیحہ: ۸۸۷) نماز با جماعت ادا کرنے والے نمازی کواذان کے بعد کون سی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہو سکتا ہے، شریعت نے اس کا تعین بھی کر دیا اور اس کا حل بھی پیشکر دیا۔ لوگوں کی فطرتی ضروریات اور حاجات کو مد نظر رکھا، تاکہ تمام لوگ نماز با جماعت کا شرف حاصل کر لیں۔ اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان اور جماعت کے درمیان تقریبا۱۵، ۱۶ منٹ کا وقفہ ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں اکثر مساجد میں نماز مغرب کی اذان کے بعد فوراً جماعت کھڑی کر دی جاتی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں دو رکعت نفل ادا کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا، اس سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے لوگ دو رکعت نفلی نماز بھی ادا کر سکتے ہیں اور اذان سن کر نماز کی تیاری کرنے والے آسانی کے ساتھ جماعت میں شریک بھی ہو سکتے ہیں۔ روحِ اذان بھییہی ہے کہ اذان کے بعد کچھ مہلت دی جائے، کیونکہ اذان کا ایک مقصد نمازیوں کو بلانا بھی ہے، اس لیے ان کے پہنچنے کا انتظار کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي الفضل وفي الباب عند الترمذي: 195


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1308 in Urdu