الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. وفِيهِ أَيْضًا شَفَاعَةُ الصِّدِيقِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ وَالشُّهَدَاءِ شَفَاعَتُهُ ﷺ لِفَرِيقِ مِّنْ أُمَّتِهِ اسْتَحَقُوا الْعَذَابَ قَبْلَ دُخُولِهِمُ النَّارَ وَاخْرَاجُ فَرِيْقٍ مِنْهَا بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُمُ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
حدیث نمبر: 13108
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُخْرَجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا مَحَشَتْهُمُ النَّارُ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بعض لوگوں کو نکالا جائے گا، جبکہ آگ نے جلا جلا کر ان کو کالا سیاہ کر دیا ہوگا، انہیں جہنمی کہا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13108]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23712»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں دو قسم کی سفارشوں کا ذکر ہے۔ جو توحید پرست اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو جائیں گے، جب ان کی سزا پوری ہو جائے گی، یا جب اللہ تعالیٰ کی رحمت تقاضا کرے گی تو ان کو آگ سے نکال لیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23712
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13108 in Urdu