الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَةِ الظَّالِمِ إِلَى أهْلِهَا
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13164
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَقْتَرِنَانِ فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَجْهَضَتْهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”عَجِبْتُ لَهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو بکریاں آپس میں لڑنے لگیں اور ایک نے دوسری کو سینگ مارا اور اسے دور بھگا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ منظر یہ دیکھ کر مسکرا پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن اس مظلوم بکری کو اس ظالم بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13164]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه البزار: 4032، والطيالسي: 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21843»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13164 in Urdu